51

ہم کتابیں کیوں پڑھتے ہیں.. ڈاکٹر ناصرعباس نئیر

” ہم کتابیں کیوں پڑھتے ہیں؟”

تم اپنی الجھن کا حل ایک سوال کی مدد سے تلاش کرسکتے ہو۔ یہ سوال خود سے کرو۔ خود سے سوال کا ایک طریقہ ہے،اسے کبھی آزماؤ۔میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ آدمی کے سب سے اچھے دوست ،وہ راستے ہیں جن پر دن کو کارواں گزرتے ہیںاور شام کو وہ سنسان ہوجاتے ہیں۔ جب کسی الجھن میں ہوتو شام کے وقت کسی ایسے ہی راستے کا انتخاب کرو۔ جیسے ہی تمھارے قدموں کا آہنگ ، اردگرد کی فضا کے آہنگ کا حصہ بن جائے ، اور کوئی شے تمھارے خیال کو بھٹکانہ سکےتو خود سے سوال کرو کہ وہ کون سی کتابیں ہیں جو تمھاری تنہائی کی رفیق ہیں اور جو تمھاری خود کلامی اور کسی ایک گہرے ، بے تکلف دوست (جن کی تعداد دوتین سے شاید ہی بڑھے)سے کبھی کبھار کی ہم کلامی کا حصہ بنتی ہیں؟ اوروہ کتابیں کون سی ہیںجنھیں تم اس لیے پڑھتے ہو کہ رسمی ، پر تکلف (چھوٹے بڑے)اجتماعات میں ،ان پراپنی رائے دے سکو؟تم دیکھو گے کہ تم نے اب تک دو ہی قسم کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ایک اپنے لیے، دوسری زمانے کے لیے۔جب تم پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ تم نے اپنے لیے کم اور زمانے کے لیے زیادہ پڑھی ہیں تو کچھ اور سچائیاں بھی روشن ہوں گی۔یاد رکھو،سچ، تنہاہوتا ہے نہ دوسروں سے الگ تھلگ۔تم پر کھلے گا کہ تم نے تھوڑی زندگی اپنے لیے بسر کی ہے اور زندگی کا بڑاحصہ دوسروں کی نذر کردیاہے۔اپنی زندگی کو دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف کردینا ایک بات ہے ، جب کہ اپنی زندگی کو دوسروں کے ڈر ، نفسیاتی جبر کے آگے کھودینابالکل دوسری بات ہے۔
کتابیں پڑھنے کی کئی وجوہ ہیں۔انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔زیادہ ترکتابیں تعلیمی اورپیشہ ورانہ ضرورت کے تحت پڑھی جاتی ہیں۔ کتاب کی صنعت کا سب سے زیادہ انحصار اسی ضرورت کو پورا کرنے پر ہے۔باقی کتابیں شخصی ، نجی وجوہ سے پڑھی جاتی ہیں۔شخصی وجوہ ہر شخص کے ساتھ بدل جاتی ہیں۔تم کچھ ایسے لوگوں سے ملو گے جو کتابوں کا مطالعہ محض عادتاً کرتے ہیں۔ جس طرح کچھ لوگوں کو چائے، سگریٹ،کرکٹ ، شطرنج، عورتوں سے فلرٹ کرنے کی عادت ہوتی ہے، اسی طرح کتابیں پڑھنے کی بھی۔ ان میں سے اکثر نے پڑھنے کا آغاز جاسوسی ، مہماتی ،رومانوی،نیم جنسی تحریروں سے کیا ہوتا ہے۔وہیں سے انھیں پڑھنے کی چاٹ لگ جاتی ہے۔وہ کتابیں نہ پڑھیں تو انھیں وہی بے چینی ہوتی ہے،جو انھیں چائے،سگریٹ نہ ملنے پر ہوتی ہے۔وہ کتابوں سے محض وقتی لطف حاصل کرتے ہیں اور اسی کو کتاب کا حاصل سمجھتے ہیں ۔وقتی لطف ہی مزید لطف کی پیاس جگاتاہے۔اصل یہ ہے کہ ہمارا ذہن ،جس چیز کے ابتدائی تجربے میں لذت کو محفوظ کرتا ہے ، ہم اسے مسلسل دہرانے کی خواہش کرتے ہیں۔ ہر عادت کے قائم ہونے کا یہی طریق کار ہے۔ عادتاً مطالعہ کرنے والے مسلسل نئی کتابوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بلاشبہ ،ان کے یہاں کتابوں سے متعلق رائے موجود ہوتی ہے ،مگر اس رائے کی بنیاد ان کا وہی ابتدائی لذت بھرا تجربہ ہوتا ہے ،جسے لامتناہی انداز میں دہرانے کی وہ خواہش کرتے ہیں۔حقیقت میں وہ عمر بھر ایک ہی کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں(شاید سب لوگ ہی ایسا کرتے ہیں)۔اسی طرح کچھ لوگ محض تفریحاً مطالعہ کرتے ہیں۔ عادتاً اور تفریحاً مطالعے میں بس اتنا فرق ہے کہ عادتاً مطالعہ باقاعدگی سے کیا جاتا ہے ،جب کہ تفریح کی خاطر صرف اسی وقت پڑھا جاتا ہے ،جب فرصت ہو اور دل بہلنے کا کوئی دوسرا سامان نہ ہو اور اب دل بہلاوے کے اتنے سامان ، دستی فون نے مہیا کردیے ہیں کہ تفریحاً مطالعہ کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔تم عادتاً اور تفریحاً مطالعہ کرنے والوں میں ایک مشترک بات مشاہد ہ کرو گے کہ وہ کتابوں کے معانی پر کتابوں کے لطف کو ترجیح دیں گے۔لذت ،آرزو کو پیدا کرتی ہے، جب کہ معنی جستجو کو۔ایک حسی ہے، دوسری ذہنی۔ مطالعے سے محض لذت کشید کرنے والے ادب کی اپنی انوکھی ماہیت، ادب کے ذریعے تاریخ ، زمانے، انسانی ہستی کی الجھنوں کو جاننے کی جستجو سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ذہنی دنیا یعنی خیالات کی دنیاکے لیے حساسیت نہیں پائی جاتی۔
تمھار اسابقہ کچھ ایسے لوگوںسے بھی پڑے گا جو کتابیں اس لیے پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں اپنے عالم فاضل ہونے کی پہچان چاہتے ہیں۔عادتاً اور تفریحاً مطالعہ کرنےو الوں میں خود پرستی کم سے کم ہوتی ہے (خود پرستی ، خود پسندی سے الگ ہے۔خود پسندی تو ہر ایک کے یہاں ہے ،خود پرستی ان لوگوں کے یہاں ہوتی ہے جوپوری دنیا کو محض اپنی انا کی نمائش کی کارگاہ سمجھتے ہیں )،لیکن کتابی علم کے ذریعے دنیا میں اپنی شناخت اور اس کی دھاک بٹھانے کی خواہش کرنے والے پرلے درجے کے انا پرست ہوتے ہیں۔وہ کتابوں کو علم کا معتبر ومستند ذریعہ سمجھتے ہیں ،اسی لیے ہر کتاب کا مجموعی استنادان کے لیے ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ بسا اوقات یہ مسئلہ ان کی اپنی زندگی کا اہم مسئلہ بن جاتا ہےاور وہ اپنی بہترین توانائیاں اس کی نذر کردیتے ہیں اور لوگوں سے عمر بھر کے جھگڑے مول لے لیتے ہیں۔ کتاب کے موضوع و معنی پر بحث سے زیادہ وہ موضوع ومعنی کی درست و مستند پیشکش پر اپنی ساری توجہ صرف کردیتے ہیں۔ وہ کتابوں کو علم کا مستند ذریعہ سمجھنے کے باوجود،کتابوں میں موجود علم کے ذریعے دنیا کو جاننے کے لیے سرگرم نہیں ہوتے۔حقیقت میں انھیں دنیا کو جاننے سے زیادہ ، اس دنیا میں اپنے عالم ہونے کی شناخت عزیز ہوتی ہے۔اس لیے وہ صرف وہی کتابیں پڑھتے ہیں اور ان کا ذکر،ہمیشہ مجلسوں میں ببانگ دہل کرتے ہیں جن سے ان کی عالمانہ شناخت مستحکم ہوتی ہے۔ وہ سب لوگ جو اپنی خاص قسم کی شناخت کے سلسلے میں حساس اور سرگرم ہوتے ہیں، ان میں کٹر پن ،تفاخر اور دوسروں کی غلطیوں پر بغلیں بجانے کا مستقل رویہ ہوتا ہے۔
انسانوں کاایک چھوٹا سا گروہ تمھیں ایسا ملے گا جوکتابیں اس یقین سے پڑھتاہے کہ صرف انھی کے ذریعے وہ اپنے اندر کے زخموں کی شناخت کرسکتاہے اور اگر ان کا کوئی اندمال ہے تو اس تک پہنچ سکتاہے۔ یا درکھو، ہمیں زخم صرف ہمارے عزیز دوست ،اقربا،رفقا ،حاسدین ، ہمارے حکمران (جنھیں ہم مثالی، نجات دہندہ سمجھنے کے مغالطے کا شکا رباربار ہوتے ہیں)ہی نہیں لگاتے ، زمانہ اور تقدیر بھی لگاتے ہیں۔نوجوانی میں پہلی قسم کے زخموں پر آدمی زیادہ تڑپتا ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، زمانےا ور تقدیر کے زخموں کا احساس بڑھتا ہے۔تقدیر کا سب سے بڑا زخم یہ ہے کہ فنا پذیر وجود میں لافانی ہونے کی آرزو رکھ دی گئی ہے۔سب سے بڑا دکھ موت کا اور سب سے بڑی دہشت بھی موت کی ہے۔ زمانہ بیماری، غربت، استحصال ہی سے آدمی کی روح کو زخمی نہیں کرتا، موت کی دہشت اور دکھ کو فراموش کرنے کے سو طریقے بھی بتاتاہے۔المیہ یہ ہے کہ آدمی زمانے کے فریب ناک نسخوں کو ماننے بھی لگتا ہے۔سفاکی کی حد تک حقیقت پرست ادیبوں نے ان نسخوں کا پردہ چاک کیا ہے اور آدمی کو اس کی ہستی کی سچائی کے روبرو لاکھڑاکیا ہے اور اسے کہا ہے کہ یہ سچائی کڑی سہی ،مگر وہ آدمی کی اپنی سچائی ہےاور کوئی شے اپنی اصل سے کہاں بھاگ سکتی ہے؟ اپنے زخموں کومحسوس کرنے والے ان کی کتابوں کی طرف رجوع کرتے ہیںاور انھیں یوں پڑھتے ہیں جیسے ایک ایک لفظ ، ایک مکمل وجود کے طور پر،ان کی روح میں راست اتر رہا ہو۔ایک سچی ، بے ریا مگر بے باک انسانی آواز ،ایک گہرے دوستانہ لہجے میں ان کی تنہائی سے مخاطب ہورہی ہو۔ اس انسانی آواز میں کہیں کہیں جلال بھی ہوسکتا ہے، مگر یہ جلال ،تقدیر کے کھیل پر جرآت واعتماد کے ساتھ تبصرے کے سبب ہوتا ہے۔تم اس انسانی آواز کو ضرور سننا اور اسے اپنا سب سے گہر ارفیق تصور کرنا۔ صرف یہی مختصر انسانی گروہ، حقیقت میں کتاب پڑھتاہے، یعنی کتاب کے ایک ایک پہلوسے کلام کرتاہےاور اس میں چھپے معنی و احساس کی دنیا کو اپنے تمام تر رنگوںکے ساتھ منکشف ہونے دیتا ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ یہ لوگ انسان کو بہ یک وقت حس وذہن وتخیل کا مجموعہ خیال کرتے ہیں۔ وہ محسوس بھی کرتے ہیں اور سوچتے بھی ہیں اور ایک نئی ممکنہ دنیا کا نقشہ بھی گھڑتے رہتے ہیں۔
( نئے نقاد کے نام ایک اور خط سے اقتباس)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں