200

ہا ہا ہا…تاریخ کا خوفناک قہقہہ… اور پردہ گرتا ہے..صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر


آہ! وہی ہو گیا جس کا خدشہ میں مسلسل اپنے کالموں, بلاگز اور پروگراموں میں ظاہر کر رہا تھا. ہم نیا پاکستان بناتے رہے اور مودی نے نیا کشمیر بنا دیا…. میرا ایک کالم روزنامہ جنگ میں شائع ہوا (2017 ) یہ جیو نیوز اردو پر بھی موجود ہے…. ٹرمپی ورلڈ آرڈر……. اس کالم میں اور اس کے بعد کے وہ تمام کالم جو پاکستان یا بین الاقوامی تعلقات پر میں نے لکھے اس میں ان تمام خدشات کا اظہار کیا گیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اگر نفسیاتی تجزیہ کیا جائے اور ان کے بیانات کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ” ھندوستان صرف ھندوؤں کا ہے” تاریخ میں جائیں تو 1492 میں شہنشاہ فرڈیننڈ نے بھی یہی کہا تھا اندلس صرف “مسیحیوں” کا ہے….. اور بھلا یہ کب کہا تھا جب سقوط غرناطہ ہوا تھا….. مسلمان وہاں بھی سیکڑوں برس حکومت کر چکے تھے اور اجڈ اور تاریک یورپ کو ایک تہزیب دے چکے تھے.. ایک تمدن دیا تھا…….. اور مسلمانوں نے اس برعظیم پاکستان و ھند پر بھی سیکڑوں برس حکومت کی ہے اور بقول نہرو,یہاں کے لوگوں کو تہزیب و تمدن مسلمانوں نے دیا…. اسی طرح کا ایک غرناطہ ابھی باقی ہے…….. جس کو نریندر مودی ختم کرنے کے درپے ہے…… اس کے بعد کیا ہو گا…… گذشتہ 25 سالوں کے حالات دیکھ لیجیے…… بوسینیا…. چیچنیا…… افغانستان…. عراق……. لیبیا…… شام…….. کہاں ہے آپ کے مہذب ممالک. ؟….کہاں ہے.. اقوام متحدہ.. ؟؟؟کہاں ہے…. او آئی سی…… ؟؟؟؟؟؟؟؟
میرا اب دل ہی نہیں کرتا کہ اس سوئی ہوئی بے حس, تاریخ سے ناآشنا ریوڑ نما ہجوم جسے بدقسمتی سے قوم کہا جاتا ہے سے اب مخاطب بھی ہوں…… کیونکہ میرا وجدان کہتا ہے کہ اس پر رب کی بات پوری ہو چکی ہے……لیکن کشمیر کے حالات پر آج بہت کڑھا ہوں…. رہا نہیں گیا اور لکھنے لگا……. انتہا پسند مودی نے یہ کرنا ہی تھا کیونکہ بی جے پی کا ہمیشہ سے ہی یہی موقف تھا …آخری موقع ہمیں 1999 میں ملا تھا جب اسی بی جے پی کا وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی “دوستی بس” میں اس تاریخی مقام پر آیا جہاں 23 مارچ 1940 کی قرار داد پاکستان منظور ہوئی تھی منٹو پارک جسے آج دانائے راز کے نام پر اقبال پارک کہا جاتا ہے…… جہاں آج مینار پاکستان ایستادہ ہے….. آہ! تاریخ نے ہمیں وہ آخری موقع دیا……. آہ ہم نے وہ اپنی عاقبت نا اندیشی سے گنوا دیا…….اب مودی کا نیا کشمیر ہے……یہ نیو ورلڈ آرڈر ہے ……. اب مقبوضہ جموں و کشمیر انڈین یونیین کا آئینی حصہ بنا دیا گیا ہے… وہاں اب بھارتی آئین چلے گا…. بس یہ خیال رہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس خیال کے تحت کیا گیا تھا کہ کشمیر جلد پاکستان کا حصہ بن جائے گا…. سارے دریا ہمیں مل جائیں گے…….افسوس اب نہیں ملیں گے……اور باقی مانندہ دریاؤں کا پانی بھی مودی روک رہا ہے اور بارہا دھمکی لگا چکا ہے…… جس ایٹم بم پر ہم اترا رہے ہیں اسکے بانی کو تو ہم بھارتی ایجنٹ کہتے ہیں…. واہ کیا لوگ ہیں ہم…… کبھی اپنے اوپر بھی ہنس لیا کریں…… جب روم جل رہا تھا تو شہنشاہ نیرو بانسری بجا رہا تھا……. ہا ہا ہا….. جب نادر شاہ درانی قندھار….. کابل….. پشاور…… ملتان….. لاہور….. روندتا ہوا بلکہ تیمور کی حمیت مغل شہنشاہیت کی ہیبت کی دھجیاں اڑاتا دہلی کے قریب پہنچا تو مغل شہنشاہ روشن اختر محمد شاہ نے فرمایا…… ہنوز دہلی دور است……. ہا ہا ہا……. یہ میں نہیں ہنسا بلکہ یہ تاریخ کی ہنسی ہے….. اور مورخ یہ بھی لکھے گا کہ جب ہندوستان کے غرناطہ کو ہڑپنے کے لیے گھیرا تنگ ہو رہا تھا تو اس کے شہری پاناما پاناما کھیل رہے تھے….. سینٹ کے چئرمین کی جنگ لڑ رہے تھے…..مخالفت میں جیلیں بھر رہے تھے….. انتقامی جنگ لڑ رہے تھے وہ بھی اپنوں سے………… ہا ہا ہا. تاریخ کا خوفناک قہقہہ……… اور پردہ گرتا ہے

6 اگست 2019…..لاہور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں