81

گوئٹے کا نغمہ محمدی ﷺ…صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

گوئتے ( Johann Wolfgang von Goethe ) جرمنی کا مشہور شاعر اور فلسفی…. (28 اگست 1749ء تا 22 مارچ 1832ء )شاعری، ڈراما، ادب، فلسفہ، الٰہیات، عرض بے شمار اصناف میں لکھا. اگرچہ جرمن ادیب تھا لیکن اسکا شمار عالمی ادب کے گنے چنے قافلہ سالاروں میں ہوتا ہے- وہ بیک وقت شاعر، ناول نویس، ڈراما نگار اور فلسفی تسلیم کیا جاتا ہے- وہ متنوع اور ہمہ گیر طبعیت کا مالک تھا اور اس کی دلچسپیاں بھی لامحدود تھیں- ادب کے علاوہ اس نے قانون، طب، علم کیمیا اور علم برق کی تعلیم بھی حاصل کی- وہ سیاست دان، تھیٹر ڈائریکڑ، نقاد اور سائنس دان بھی تھا- ان تمام صفات نے مل جل کر اسے عالمی ادب کی دیوقامت شخصیات کی صف میں لاکھڑا کیا ہے- بین الاقوامی شہرت و مقبولیت میں وہ ہومر، شیکسپیئر اور دانتے کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔۔

گوئٹے کا نغمہ محمدیﷺ

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر/صاحب تحریر
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

گوئتے فلسفے کی دنیا کا بھی ایک بہت بڑا اور معتبر نام ہے… علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے بارے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ گوئٹے سے متاثر تھے…. متاثر ہونا ایک لفظی اصطلاح ہے لیکن اسکی معنویت اہل دانش کے لیے بہت ہی مختلف ہے… ابلاغی سائنس کے حوالے سے ایک عام شخص کا perception خواہ وہ کیمسٹری,باٹنی,فزکس یا ریاضی کا Ph. D ہی کیوں نہ ہو اسکی معنویت اپنے “ریفرنس” سے ہو گی جس کو ہم میڈیا سائنسز میں Frame Of Reference کہتے ہیں…. گوئتے کو جیسا کہ حضرت علامہ نے سمجھا ہو گا اسکے لیے حضرت علامہ جیسا مطالعہ اور فہم و فراست درکار ہے….خیر یہ ایک طویل بحث ہے یہ جرمن فلاسفر اسلام کے تصور انقلاب سے خود متاثر محسوس ہوتا ہے کیونکہ وہ خود عمل کا قائل ہے…
Knowing is not enough; we must apply. Willing is not enough; we must do.

اس عظیم جرمن فلسفی نے حضور رسالت مآب ﷺکی شان اقدس میں ایک نعت کہی …حضرت علامہ نے اس کا فارسی ترجمہ کیا جبکہ جناب ڈاکٹر شان الحق حقی نے اردو میں منظوم ترجمہ کیا

نغمہِ محمدی
شاعر : جان وولف وین گوئتے
اردو ترجمہ : ڈاکٹر شان الحق حقی

وہ پاکیزہ چشمہ
جو اوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا
سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے
چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا
چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے
وہ کتنے ہی صد رنگ اَن گھڑ خزف ریزے
آغوشِ شفقت میں اپنی سمیٹے
بہت سے سسکتے ہوئے رینگتے، سُست کم مایہ سوتوں کو چونکاتا ، للکارتا ساتھ لیتا ہوا خوش خراماں چلا
بے نمو وادیاں لہلہانے لگیں
پھول ہی پھول چاروں طرف کھل اٹھے
جس طرف اُس ﷺ کا رخ پھر گیا
اُس ﷺ کے فیضِ قدم سے بہار آگئی
یہ چٹانوں کے پہلو کی چھوٹی سی وادی ہی کچھ
اُس ﷺ کی منزل نہ تھی
وہ تو بڑھتا گیا
کوئی وادی ، کوئی دشت، کوئی چمن، گلستاں، مرغزار
اُس ﷺ کے پائے رواں کو نہ ٹھہرا سکا
اُس ﷺ کے آگے ابھی اور صحرا بھی تھے
خشک نہريں بھی تھیں ، اُترے دریا بھی تھے ۔
سیلِ جاں بخش کے ، اُس ﷺ کے سب منتظر
جوق در جوق پاس اُس ﷺ کے آنے لگے
شور آمد کا اُسﷺ کی اٹھانے لگے
راہبر ﷺ ساتھ ہم کو بھی لیتے چلو
کب سے تھیں پستیاں ہم کو جکڑے ہوئے
راہ گھیرے ہوئے ، پاؤں پکڑے ہوئے
یاد آتا ہے مسکن پرانا ہمیں
آسمانوں کی جانب ہے جانا ہمیں
ورنہ یونہی نشیبوں میں دھنس جائیں گے
جال میں اِن زمینوں کے پھنس جائیں گے
اپنے خالق کی آواز کانوں میں ہے
اپنی منزل وہيں آسمانوں میں ہے
گرد آلود ہیں پاک کر دے ہمیں
آ ۔ ہم آغوش ِ افلاک کردے ہمیں
وہ رواں ہے ، رواں ہے ، رواں اب بھی ہے
ساتھ ساتھ اُس کے اک کارواں اب بھی ہے
شہر آتے رہے شہر جاتے رہے
اُس ﷺ کے دم سے سبھی فیض پاتے رہے
اُس ﷺ کے ہر موڑ پر ایک دنیا نئی
ہر قدم پر طلوع ایک فردا نئی
قصر ابھرا کيے خواب ہوتے گئے
کتنے منظر تہہ ِ آب ہوتے گئے
شاہ اور شاہیاں خواب ہوتی گئیں
عظمتیں کتنی نایاب ہوتی گئیں
اُس ﷺ کی رحمت کا دھارا ہے اب بھی رواں
از زمیں تا فلک
از فلک تا زمیں
از ازل تا ابد جاوداں ، بیکراں
دشت و در ، گلشن و گل سے بے واسطہ
فیض یاب اس سے کل
اور خود کل سے بے واسطہ

Song for Mohammed
By: Johann Wolfgang von Goethe

Behold this rocky spring,
bright with joy
like a twinkling star;
above the clouds
its youth was nourished
by good spirits
among the cliffs in the bushes.
Fresh as a youth
it dances out of the cloud
down to the marble rocks,
cheering again
to the sky.
Along mountainous paths
it chases after colorful pebbles,
and with the step of a young leader
its companion-springs journey
with it onward.
Below in the valley
flowers appear from its footprints,
and the meadow
derives life from its breath.
But no shaded valley can stop it,
no flower,
clasping its knees
and imploring it with loving eyes:
toward the Plains it presses its course,
twisting like a snake.
Brooks nuzzle up
sociably. Now it treads
into the Plain, resplendent with silver,
and the Plain grows silver too,
and the rivers of the Plain
and the brooks of the mountains
cheer and shout: “Brother!
Brother, take your brothers with,
take them with you to your ancient father,
to the eternal ocean,
whose outstretched arms
await us,
who, ah! has opened them in vain
to embrace his yearning children;
for the bleak wasteland’s
greedy sand devours us; the sun above
sucks up all our blood; a hill
clogs us into a pool! Brother,
take your brothers from this Plain,
take your brothers from the mountains,
take them with you to your ancient father!
Come all of you! –
and now [the spring] swells
more grandly: an entire race
lifts the prince up high!
And in rolling triumph
it gives names to the lands and cities
that grow in its path.
Irresistibly it rushes onward,
leaving a wake of flaming-tipped towers
and houses of marble – creations
of its bounty.
Like Atlas it bears cedar houses
upon its giant’s shoulders;
over its head, the wind noisily
blows a thousand flags
as testimony of its glory.
And so it brings its brothers,
its treasures, its children,
effervescent with joy,
to the waiting parent’s bosom.

[Translation from German to English
by Emily Ezust]
نوٹ : اس پوسٹ کا محرک ارسلان رضا صاحب کے وال پر موجود گوئتے کی نعت بنی. جزاک اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں