235

علامہ اقبال کی لکھنو میں جناب رشید لکھنوی سے ملاقات کا دلچسپ احوال…. صاحب زادہ زابر سعید

کبھی اے حقیقت منتظر……….

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

رمضان المبارک کی آمد ہے…. کچھ ایسا ہوا کہ رات ہی سے طبیعت میں بوجھل پن تھا… جب اللہ کی رحمت سے ایک اور خوبصورت دن اس عاجز کو عطا ہوا تو بیداری کے وقت سے حضرت علامہ کا یہ شعر بار بار لبوں پر آتا رہا…. اور اچانک احساس ہوا کہ علامہ کا رب سے تعلق کس قدر مضبوط توانا اور بچوں ایسی شوخ معصومیت لیے ہے…. گویا اس لمحے میری قلبی محسوسات کو ایک صدی پیشتر علامہ محسوس کر چکے تھے اسی لیے انہیں دانائے راز کہا جاتا ہے میرے شکستگی کو کس خوبصورت پیرہن میں اوڑھا دیا اور میری قلبی کیفیت کا گویا غماز تھا یہ شعر…..
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے, ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے, نگاہ آئنہ ساز میں
اسی کیفیت میں پوری نظم پڑھنے کو دل چاہا.. بانگ درا گو سامنے کے شلف میں ہی تھی لیکن فون کو غنیمت جانا اور ریختہ پر اس نظم کو تلاش کیا تو یہ دلچسپ واقعہ بھی درج تھا جس کو پڑھ کر محظوظ ہوا کہ حضرت علامہ بھی احباب کی محفل میں اس کو سنا کر محظوظ ہوتے تھے….. سبحان اللہ

ایک مرتبہ حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ ایک تعلیمی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے لکھنؤ گئے۔ اسی سفر کے دوران ہوا یوں کہ انہیں اردو کے مشہور فکشن رائٹر سید سجاد حیدر یلدرم کے ساتھ تانگے میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ دونوں حضرات پیارے صاحب رشید لکھنوی کے گھر پہنچے۔ دوران گفتگو اقبال نے اپنی یہ مشہور غزل انھیں سنائی اقبال کی اس غزل کو پیارے صاب رشید بڑی خاموشی سے سنتے رہے اور کسی بھی شعر پر داد نہ دی۔ جب وہ اپنی پوری غزل سنا چکے تو پیارے صاحب نے فرمایا،” اب کوئی غزل اردو میں بھی سنا دیجے۔ ” اس واقعے کو علامہ اقبال اپنے دوستوں میں ہنس ہنس کے بیان کرتے تھے۔ ۔۔ یہ نظم بانگ درا میں شامل ہے…. اس نظم میں حضرت علامہ کے رب کائنات سے تعلق کی اس معراج کا اظہار ہو رہا ہے جہاں تک رسائی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے…اس نظم میں حضرت علامہ اپنے رب کے حضور گفتگو کر رہے ہیں…. ان کے انداز میں ایک بچے کی سی معصومیت ہے… بے انتہا محبت ہے…… عشق ہے….. اظہار ندامت ہے…… لیکن اس در سے امید ہی امید ہے کہ وہ کبھی خالی نہیں لوٹاتا یہ اس کی شان کے خلاف ہے…. علامہ کے عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ہمیں احترام میں لپٹا اظہار عشق ملتا ہے لیکن اللہ سے باتیں کرتے ہوئے بچوں ایسی معصومیت, شوخی اور اظہار ندامت ملتا ہے…

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں

دم طوف کرمک شمع نے یہ کہا کہ وہ اثر کہن
نہ تری حکایت سوز میں نہ مری حدیث گداز میں

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
الفاطمہ,
علامہ اقبال ٹاؤن,لاہور
26 اپریل 2020
2 رمضان المبارک

بشکریہ: ریختہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں