78

ایک ویلنٹائن ڈے کا قصہ…. صاحب زادہ زابر سعید

ایک ویلنٹائن ڈے کا قصہ

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب 14 فروری کو محبوب سے اظہار محبت پر کوئی قانونی پابندی نہیں تھی. اس دن کو محبت کے لیے مختص کیا گیا ہے. اب اس حوالے سے کئی سچی جھوٹی کہانیاں یار لوگوں نے سنا رکھی ہیں اس بحث میں پڑے بغیر ایک قصہ سناتا ہوں ایک لڑکے اور ایک لڑکی کو بالکل اسی طرح پیار ہو گیا جس طرح عموما ہوتا آیا ہے بس فرق اتنا تھا کہ لڑکا شادی شدہ تھا اور لڑکی عمر میں اس سے کافی کم تھی. اب وہی مسلہ کہ کیوپڈ چونکہ اندھا تھا اس لیے محبت بھی اندھی ہوتی ہے. ویسے آپس کی بات ہے کہ اتنا خوبصورت جذبہ جو احساس میں گداز لانے کا سبب ہے جو خزاں کو بہار میں تبدیل کر سکتا ہے جو پل میں شیطان کو دیوتا بنا دیتا ہے, جو پتھر کو ایک آنسو سے موم کر ڈالتا ہے کچھ تو ہے اس میں, اندھا ہے یا نہیں اس بات کو جانے دیں. خواہ مخواہ قصہ طوالت کا شکار ہو رہا ہے حالانکہ اس مختصر سے لفظ عشق کی شدت اتنی ہے کہ سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے. کئی خاموش صدیاں دیوانوں کی دیوانگی کی گواہ ہیں لیکن وینس ڈی میلو کی مجسمے کی طرح ساکت ہیں.اب وہ معصوم لڑکی جو دل دے بیٹھی تھی اپنے شادی شدہ محبوب کو اور وہ بھی بظاہر پتھر بنا اس موم بتی کی طرح پگھل رہا تھا جسے آہستہ آہستہ اپنا خاتمہ قریب نظر آ رہا ہو لیکن اسے تو پتھر بنے رہنا تھا اسی میں اسکی بقا تھی اسے موم بتی کی طرح نہیں پگھل کر ختم ہونا تھا. ویلنٹائن ڈے کو محبت کا دن کہا جاتا ہے وہ معصوم پری بھی انہی طلسماتی تصورات کے زیر اثر تھی.ہم جانتے ہیں کہ میڈیا کے اثرات گولی کی طرح اثر کرتے ہیں خاص طور پر معصوم بچے بچیوں پر.اب ہمارے قصے میں لڑکی تو معصوم تھی پر لڑکا سمجھدار تھا. اس محبت کی دیوانی نے اسی ویلنٹائن ڈے کے موقع پر لڑکے کو سرخ جالی والا باریک سے کپڑے میں لپٹا ایک قیمتی بھالو تحفہ دیا اور ساتھ ایک سرخ دل والا خالی کارڈ بھی. لڑکے سمجھدار تو بہت تھا پر اس معصوم ادا پر اس کا دل بھر آیا اس وقت اس نے ایک سخت فیصلہ کیا کہ اب کبھی اس لڑکی کو نہیں ملنا.کہتے ہیں کہ اس نے اپنا وعدہ نبھایا اور اس لڑکی کا دل توڑ دیا کیونکہ اسی میں سب کی بہتری تھی.محبت کی سب سے بڑی خوبی یا خامی یہ ہے کہ ہر قربانی کے پیچھے محبت ہوتی ہے.کسی سے یہ بھی سنا ہے کہ ابھی چند ماہ پہلے اس لڑکی کی شادی ہو گئی ہے.رب کائینات اسے ہمیشہ خوش رکھے.بس جناب اتنا سا ہی قصہ تھا. زیادہ سنجیدہ مت ہوں.
صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر
14 فروری 2018, لاہور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں